Skip to main content

سامنے رکھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

سامنے رکہا تہا میرےاور وہ میرا نہ تہا 
از قلم :معاذ دانش حمید اللہ 

 ۲۸_۲۹ جولائی سنہ ۲۰١۸ بروز ہفتہ واتوار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام اٹھارہواں کل ہند مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم صبح ١۰:۰۰ بجے اہل حدیث کمپلیکس میں شروع ہوا چھ زمروں پر مشتمل اس پروگرام میں قیام وطعام کا معقول انتظام کیا گیا تہا ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ کے وفود پہونچ چکے تہے لوگوں میں باہمی مسابقت کا عظیم جزبہ دکھائی دے رہا تہا سابقہ روایات کے مطابق جامعہ اسلامیہ سنابل سے بہی طلبہ کا ایک جم غفیر کمپلیکس کے احاطے میں قدم رکھ چکا تہا ہر طرف جوش تہا امنگ تہا خوشیوں کی لہر تہی یہ ساری چیزیں اپنے آپ میں ایک ایک نادر ونایاب عکس پیش کر رہی تہیں امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی ودیگر اراکین مجلس نیز باہر سے تشریف لائے بعض اہل علم کے تاثراتی کلمات کے بعد مسابقے کا باقاعدہ آغاز ہوا لیکن ابہی چند ساعت نہ گزرے ہوں گے کہ ایک اعلان آیا جس میں مقامی افراد کو مسابقے کے بعد بلا ظہرانہ گھر تشریف لے جانے کی تلقین کی گئی تہی اس اعلان نے مسابقے کے دوران ہی ایک زبردست ہنگامہ برپا کر دیا مشارکین مسابقہ کی گونج سے کمپلیکس کے درودیوار دھل گئے لوگوں میں اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی حالات بگڑ گئے پرچے پر مرکوز نظریں بلند ہوگئیں راقم نے وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا مقصود شرکت مسابقہ نہیں بلکہ اصل مسابقت تو بریانی میں ہے جسے تمام اکھاڑوں پر فوقیت حاصل ہے جو کہ مقصود اصلی ہے مسابقات تو مقصد اصلی (بریانی)تک پہونچنے کا فقط ایک وسیلہ ہیں وہ مقصود نہیںحالات پرقابوپانے کے لئے فوری طور پر ایک دوسرا فیصلہ لیا گیا جس میں کہا گیا کہ تمام مشارکین مسابقہ ظہرانہ کے بعد ہی گھر تشریف لے جائیں یہ ہمارے لئے باعث سعادت ہوگی علاوہ ازیں بعد صلاۃ ظہر بریانی کا ماحول بن چکا تہا اصل معرکہ پیش آنے والا تہا تیاریاں زوروں پر تہیں خوشبو کے اثرات ظاہر ہورہے تہے نگاہیں فرط مسرت سے چبھ رہی تہیں مشارکین کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے ڈائینگ حال تنگ دامنی کا شاکی تہا ہم لوگ بہی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے طعام گاہ میں آگے بڑھ کر جگہ متعین کرچکے تہے سیلفیاں کثرت سے لی جارہی تہیں لوگ مسلسل اندر داخل ہورہےتہے دیکھتے ہی دیکھتے ساری سیٹیں پر ہوچکی تہیں لیکن کہانے کے آثار دکہائی نہیں دے رہے تہے لوگ کہانے کے لوکیشن کا پتہ کر رہے تہے اور شدت شوق سے اسم بامسمی بریانی شریف کا انتظار کررہے تہے بگڑتے حالات پرقابو پانےکےلئے چند جوانوں کو بہی تعینات کردیا گیا تہا ساری تیاریاں مکمل کر لی گئی تہیں دیواروں کے کنارے لگے ہوئے بڑے بڑے کولر مہمانوں کےغضب کو ٹھنڈا کررہے تہے دستر خوان بچھائے جاچکے تہے یکایک پانی کے کچھ بھاپ کے اثرات اڑتے دکھائی دئےجو{وهو الذي يرسل الرياح بشرا بين يدي رحمته}کےمصداق تہے جو بریانی شریف کے ورود میمنت کی خوشخبری سنا رہے تہےانتظار وخوشی کی ملی جلی اسی کیفیت میں ایک اندوہناک حادثہ رونما ہوا کہ ہمارے ایک ساتہی عبد الجبار کو کہانے کی سیٹ ہتہیانے کے جرم میں گرفتار کرکے ڈائینگ حال کے باہرکردیا گیا فوری طور پر ساتہیوں نے کلاس کے دیگر بڑے بڑے سورماؤں سے بات کی اور عبد الجبار بہائی کو رہا کرایا گیا اسی اثناء میں بریانی کی ڈشیں آنا شروع ہوگئیں لیکن لوگوں کی کثرت اور اور باہر سے غیر قانونی طریقے ڈائینگ حال میں داخل ہونےکا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری رہا جس کی وجہ سے سخت افراتفری کا معاملہ پیش آیا حالات بگڑ گئے حالات بدتر سے بدتر ہوتے جارہے تہے اس لئے فوری طور پر سنابل میں حالیہ ڈائیننگ حال کے چئیرمین سابق کہیل منتری اسرار بہائی _جو کہ روزانہ بیک وقت سات سو طلبہ کو ایک ساتھ مینیج کرنے والےاور ایک بڑےصلاح کار رہ چکے ہیں _سے رابطہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ اب سنابل کے طلبہ ہی کو زمام کار اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال بہی ہونے والی افراتفری پر اہل سنابل ہی نے آگے بڑھ کر حالات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تہا یاد رہے کہ جامعہ سنابل میں ناگہانی حالات میں بریانی تقسیم کرنے کی ایک خاص ٹریننگ دی جاتی ہے جو اتوار کی شام بعد صلاۃ عشاء دیکہی جا سکتی ہےبہر حال حالات پر قابو پایا گیا اور بریانی کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوگیا ماحول گرم ہوچکا بریانی کا بھاپ اڑنے لگا ماشاء اللہ راقم کے سامنے پلیٹ سنورتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوا آپہونچا چند ساعتوں میں معرکہ آرائی ہونے والی تہی کہ اچانک ایک ڈش ہمارے سامنے ہی آپہونچی ماشاء اللہ گوشت سے بھرا ڈش تہا ایک پلیٹ لئے اور پورے اخلاص کے ساتھ نوش فرمانے لگے ہمارے سامنے نوشاد بہائی تہے جو دو پلیٹ لینے میں کامیابی حاصل کرلی تہی وہی ڈش باربار دیکھ کر منہ میں پانی آرہا تہا کبہی نوشاد بہائی کی طرف دیکہتا کبہی ڈش کی طرف اور زبان حال سے یہ کہتا رہا 
 سامنے رکہا تہا میرے اور وہ میرا نہ تہا


دوڑ مسابقہ اساتذہ مرکز الامام البخاري تلولی ممبئی 
الوداعی ترانہ مرکز الامام البخاري تلولی ممبئی 

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی کلمات جامعہ اسلامیہ سنابل jamia Islamia Sanabil

محبتوں کا دریا سموئے ہوئے جدا ہورہے ہیں گلشن علم وفن سے ملاقات کے دن ختم ہوئے جدائی کے دن قریب ہوئے آج وہ  لمحہ آچکا ہے  ہے جس میں خوشی کا پہلو کم اور غمی کا پہلو زیادہ ہے جامعہ کے تئیں دل میں محبت کے جو جذبات موجزن ہیں ان کے اظہار کے لئے مجھے مناسب الفاظ نہیں مل رہے ہیں اور نہ میرے پاس وہ پیرایہ بیان ہے جس کے ذریعہ میں اپنے غم جدائی کی تفصیل کرسکوں اور مجھ جیسے ناتواں کے لئے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے جملوں اور الفاظ کے ذریعہ ان جذبہائے محبت کی ترجمانی کرسکے جو دلوں میں پیوست ہوچکے ہیں کیونکہ اب اس دیار محبوب کو الوداع کہنے کا وقت قریب آچکا ہے جس کی گود میں ہم نے اپنی تعلیمی زندگی کے بیشتر ایام گزارے ہیں اور مشکل ترین وصبر آزما حالات میں بہی ہم نے اسے اپنا جائے پناہ بنایا ہےاے سنابل تیری فضا کتنی راحت بخش تھی جس سے اب ہم اشک چھلکاتے وداع ہو رہے ہیں یقیناً اس وقت کو ہم کیسے بھلا سکتے جب ہم نے پہلی بار سرزمین سنابل میں قدم رکھا تہا اور اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کو دل میں بسائے ہوئے اس مادرعلمی میں داخلہ لیا اور یہاں کے چشم صافی سے جام کشید کرنے کے لئے پختہ عزا...

جنات کی حقیقت

  جنات کی حقیقت کتاب وسنت کی روشنی میں جنات اپنی فطرت وطبیعت کے لحاظ سے ایک غیر مرئی مخلوق ہیں جنہیں اللہ رب العالمین نے اپنی عبادت کے لئے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے اور انہیں مختلف روپ دھارنے کا ملکہ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی طاقت وقوت سے سرفراز کیا ہے.ذیل کے سطور میں جنات کے تعلق سے ایک اجمالی خامہ فرسائی کی گئی ہے. جنات کی تعریف جنات کی تعریف کرتے ہوئے امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :هم أجسام عاقلة خفية تغلب عليهم النارية والهوائية. [فتح القدیر 303/5] "جن وہ صاحب عقل اجسام ہیں جو نظر نہیں آتے ان پر ہوائی اور آتشی مادہ غالب ہوتا ہے ". جنات کے ثبوت میں قرآنی دلائل جنات ایک آتشی مخلوق ہیں جس کا ثبوت قرآن میں متعدد مقامات پر موجود ہے اللہ رب العالمین نے ان کے نام سے قرآن کی ایک سورت بنام "سورۃ الجن" نازل فرمائی ہم یہاں قرآن مجید سے چند دلائل ذکر کرتے ہیں جو آتشی مخلوق جنات کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا:وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ. [سورۃ الاحقاف :29] "اور یاد کر...

वन्दे मातरम् - मूल पाठ, सरल अर्थ और इस्लामी दृष्टि से विवेचन

  यह लेख किसी भावना को ठेस पहुँचाने या विवाद के लिए नहीं, बल्कि इस्लामी दृष्टिकोण को शांति, सम्मान और तर्क के साथ स्पष्ट करने के उद्देश्य से लिखा गया है। *भूमिका*     मुसलमान अपने धर्म में तीन बातों का विशेष ध्यान रखते हैं:   *1. आस्था (विश्वास)* *2. बोली (भाषा)* *3. कर्म (व्यवहार)*   इन तीनों में वे पूरी कोशिश करते हैं कि कहीं भी अल्लाह के साथ किसी को साझी न ठहराया जाए। *आस्था (विश्वास)* मुसलमान उसी पर विश्वास रखते हैं जो क़ुरआन और सही हदीस से सिद्ध हो, और जो इसके विरुद्ध हो उसे स्वीकार नहीं करते। किसी विद्वान या व्यक्ति की बात तब तक नहीं मानते, जब तक वह इन शिक्षाओं के अनुरूप न हो। *बोली (भाषा)* वे अपनी भाषा में ऐसे शब्द नहीं बोलते जिनसे पूजा, बंदगी या ईश्वर जैसी भावना अल्लाह के अलावा किसी और के लिए प्रकट हो। *कर्म (व्यवहार)*   वे अपने व्यवहार में भी सावधानी रखते हैं कि कोई कार्य अल्लाह के अलावा किसी और की पूजा जैसा न बन जाए। *तोहिद और शिर्क का अर्थ* *तोहिद* तोहिद का अर्थ है: केवल एक ईश्वर की पूजा करना उसी को सृष्टि का र...