Skip to main content

Qutub Minar قدیم سیاحت گاہ قطب مینار کا ایک حسین منظر نامہ

قدیم سیاحت گاہ قطب مینار کا ایک حسین منظر نامہ
 (اردو خاندہ کے لئے نظر التفات) 
از قلم :معاذ دانش 
قوت الاسلام مسجد
قوت الاسلام مسجد (دہلی)کے صحن کا ایک منظر 
سلطان محمد شہاب الدین کے مارے جانے کے بعد سلطان قطب الدین ایبک نے جون ١۲۰٦ء کو لاہور میں اپنی تخت نشینی کا اعلان کیا، یہ عالموں کا قدر دان اور اپنی فیاضی اور دادودہش کی وجہ سے تاریخ میں "لکھ بخش" کے نام سے موسوم ہندوستان کا وہ پہلا ترکی النسل مسلم بادشاہ ہے جس نے دہلی میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی، جو "دہلی سلطنت" کے نام سے مشہور ہوئی، اورنومبر ١۲١۰ء میں لاہور میں چوگان (پولو) کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر راہی ملک عدم ہوا اور انار کلی کے ایک کوچے"ایبک روڈ"میں دفن ہوا.اسی نے ١۹۹۰ء میں اس مسجد کی تعمیر شروع کی البتہ قطب الدین ایبک کے زمانے میں اس مسجد کا صحن مستطیل نما تھا ، اس مسجد کی لمبائی ١٤١ اور چوڑائی ١۰٥ فٹ تھی، صحن کے چاروں طرف دالان بنائے گئے تہے، مسجد میں خط کوفی میں خطاطی کے بہترین نمونے آج بہی موجود ہیں ،ایبک کے بعد التمش نے اس مسجد کی توسیع کی،چونکہ التمشؔ کے دور میں سنگ تراشوں کی ہنر مندی میں تبدیلی واقع ہوچکی تھی اس لئے اس دور میں بنائے گئے ستونون میں ہندو اور جینی طرز تراش کی بجائے اسلامی طرز تعمیر کا غلبہ قدرے زیادہ دکھائی دیتا ہے ،التمش ؔ ہی کے دور میں مشرقی جانب خواتین کے لئے مصلی بھی بنایا گیاتہا التمش کے بعد ١٣۰۰ء میں علاؤالدین خلجی نے بھی اس مسجد کی مزید توسیع کی.
مسجد کی موجودہ صورت حال 

مسجد کی موجودہ صورت حال کھنڈر جیسی ہی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام "ضرب کلیم" میں ایک نظم "قوت اسلام مسجد" کے عنوان سے لکھی ہے:

ہے مرے سینۂ بے نور میں اب کیا باقی
'لا الہ' مردہ و افسردہ و بے ذوقِ نمود
چشمِ فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو
کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقامِ محمود
کیوں مسلماں نہ خجل ہو تری سنگینی سے
کہ غلامی سے ہوا مثلِ زُجاج اس کا وجود
ہے تری شان کے شایاں اسی مومن کی نماز
جس کی تکبیر میں ہر معرکۂ بود و نبود
اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت، وہ گداز
بے تب و تابِ دروں میری صلوٰۃ و درود
ہے مری بانگِ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہ
کیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟

مسجد کے مغرب میں التتمش کا مزار ہے جو 1235ء میں تعمیر کیا گیا۔
سلطان التمش کے مزار کا ایک منظر 

قطب مینار 
قطب مینار (دہلی)کا ایک خوبصورت منظر
یہ سرخ پتہر سے بنا دنیا کا سب سے بلند مینار ہے جو بلا کسی عمارت یا سہارے کے کھڑا ہے جس میں قرآن کریم کی آیات کندہ ہیں،
یہ مینار اور اس سے ملحقہ عمارات اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔
قطب الدین ایبک نے١١۹۰ءمیں قوت الاسلام مسجد کی تعمیر کا آغاز کرنے کے بعد ١١۹۹ء میں اس مینار کا کام شروع کرایا.
جب قطب الدین ایبک کی "قوت الاسلام مسجد"کی تعمیر پائے تکمیل کو پہونچی تب تک اس" قطب مینار "کی پہلی منزل ہی تعمیر ہو رہی تھی اسی دوران سال ١۲١۰ء میں سلطان قطب الدین ایبک لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے ایک حادثے کا شکار ہوگئے اس وقت تک مینار کی ایک ہی منزل مکمل ہوپائی تہی ،
بعد میں غلام خانوادے سے شمس الدین التمش{ ١۲١١ء _١۲٣٥ء} نے تین منزلوں کا مزید اضافہ کیا ، جس پر اسلامی پرچم نہایت شان سے لہراتا تہا اور ہر منزلے پر جلی حروف میں قرآنی آیات کندہ کروائیں. 
پہر سلطان فیروز شاہ تغلق (١٣٥۲ء-١٣۸۷ء}نے چوتھی منزل، جو کافی خستہ حال ہو چکی تھی اتروا کراس کی جگہ دو منزلیں بنوا دیں.
 اس طریقے سے کل پانچ منزلے ہیں جو اس خوبی سے بنائے گئے ہیں جو تحریر سے باہر ہے اور اسی صورت میں فی الحال موجود ہیں جن کی اونچائی 72.5 میٹریعنی 240 فٹ ہے اوپرتک پہنچنے کے لئے 379 سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔
قطب مینار کے قریب کا ایک حسین منظر 
سلطان علاؤ الدین خلجی{١۲۹٦ء_١٣١٦ء} کے دور حکومت میں مسجد کی توسیع اورعلائی دروازے کی تعمیر ہوئی اس کے بعد ہی مینار مسجد کے احاطے میں شامل ہوا،قطب الدین کے وقت سے لےکر علاؤ الدین خلجی کے وقت تک یعنی ١۰۰برس تک مینار مسجد کے احاطے کا حصّہ نہیں تھا -
ٹاور کے ارد گرد ہندوستانی آرٹ کے بہت عمدہ نمونہ ہیں، جن میں سے اکثر ١١۹٣ءیا اس سے پہلے کے دوران تعمیر کیے گئے تھے.
قطب مینار کے ارد گرد بنی مختلف عمارتیں 
علائی مینار 
علائی مینار کا ایک حسین منظر 

علاء الدین خلجی کو ارادہ ہوا کہ قطب کامپلیکس میں مسجد قوت الاسلام کی توسیع دوگنی ہو اور ایک ایسے مینار کی تعمیر ہو جو قطب مینار سے بھی بلند ہو۔ اس ارادے کو عمل میں لاتے ہوئے اس نے ١۲۹٦ء سے ١٣١٦ءکے درمیان اس مینار کی تعمیر شروع کروائی لیکن ابہی 24.5 میٹر ہی  بلند ہو سکا تہا کہ علاء الدین خلجی کا انتقال ہوگیا اور بعد میں اس کے ورثہ میں اس قدر استحکام نہ تھا کہ وہ اسے پائے تکمیل تک پہونچا سکیں اس لئے آج بہی یہ اسی صورت حال میں موجود ہے .
 اس مینار میں خاص بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد ایک (۲۲فٹ اونچے وسیع)چبوترے پر رکہی گئی ہے، دیوار کی موٹائی 19فٹ ہے جس کے اطراف ٣۲رخ ہیں ،ہر رخ ۸فٹ کا ہے، اس کی موجودہ بلندی ۸۰ فٹ اور قطر ۷۷.۷۲فٹ ہے، علاءالدین خلجی کے اس پر عزم حوصلے اور بلند سوچ سے ایسا لگتا ہے کہ اگر اس کی تعمیر مکمل ہوجاتی تو یہ قطب مینار سے دوگنا اونچا ہوتا.
قریب سے علائی مینار( دہلی)کا ایک منظر  

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی کلمات جامعہ اسلامیہ سنابل jamia Islamia Sanabil

محبتوں کا دریا سموئے ہوئے جدا ہورہے ہیں گلشن علم وفن سے ملاقات کے دن ختم ہوئے جدائی کے دن قریب ہوئے آج وہ  لمحہ آچکا ہے  ہے جس میں خوشی کا پہلو کم اور غمی کا پہلو زیادہ ہے جامعہ کے تئیں دل میں محبت کے جو جذبات موجزن ہیں ان کے اظہار کے لئے مجھے مناسب الفاظ نہیں مل رہے ہیں اور نہ میرے پاس وہ پیرایہ بیان ہے جس کے ذریعہ میں اپنے غم جدائی کی تفصیل کرسکوں اور مجھ جیسے ناتواں کے لئے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے جملوں اور الفاظ کے ذریعہ ان جذبہائے محبت کی ترجمانی کرسکے جو دلوں میں پیوست ہوچکے ہیں کیونکہ اب اس دیار محبوب کو الوداع کہنے کا وقت قریب آچکا ہے جس کی گود میں ہم نے اپنی تعلیمی زندگی کے بیشتر ایام گزارے ہیں اور مشکل ترین وصبر آزما حالات میں بہی ہم نے اسے اپنا جائے پناہ بنایا ہےاے سنابل تیری فضا کتنی راحت بخش تھی جس سے اب ہم اشک چھلکاتے وداع ہو رہے ہیں یقیناً اس وقت کو ہم کیسے بھلا سکتے جب ہم نے پہلی بار سرزمین سنابل میں قدم رکھا تہا اور اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کو دل میں بسائے ہوئے اس مادرعلمی میں داخلہ لیا اور یہاں کے چشم صافی سے جام کشید کرنے کے لئے پختہ عزا...

جنات کی حقیقت

  جنات کی حقیقت کتاب وسنت کی روشنی میں جنات اپنی فطرت وطبیعت کے لحاظ سے ایک غیر مرئی مخلوق ہیں جنہیں اللہ رب العالمین نے اپنی عبادت کے لئے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے اور انہیں مختلف روپ دھارنے کا ملکہ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی طاقت وقوت سے سرفراز کیا ہے.ذیل کے سطور میں جنات کے تعلق سے ایک اجمالی خامہ فرسائی کی گئی ہے. جنات کی تعریف جنات کی تعریف کرتے ہوئے امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :هم أجسام عاقلة خفية تغلب عليهم النارية والهوائية. [فتح القدیر 303/5] "جن وہ صاحب عقل اجسام ہیں جو نظر نہیں آتے ان پر ہوائی اور آتشی مادہ غالب ہوتا ہے ". جنات کے ثبوت میں قرآنی دلائل جنات ایک آتشی مخلوق ہیں جس کا ثبوت قرآن میں متعدد مقامات پر موجود ہے اللہ رب العالمین نے ان کے نام سے قرآن کی ایک سورت بنام "سورۃ الجن" نازل فرمائی ہم یہاں قرآن مجید سے چند دلائل ذکر کرتے ہیں جو آتشی مخلوق جنات کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا:وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ. [سورۃ الاحقاف :29] "اور یاد کر...

वन्दे मातरम् - मूल पाठ, सरल अर्थ और इस्लामी दृष्टि से विवेचन

  यह लेख किसी भावना को ठेस पहुँचाने या विवाद के लिए नहीं, बल्कि इस्लामी दृष्टिकोण को शांति, सम्मान और तर्क के साथ स्पष्ट करने के उद्देश्य से लिखा गया है। *भूमिका*     मुसलमान अपने धर्म में तीन बातों का विशेष ध्यान रखते हैं:   *1. आस्था (विश्वास)* *2. बोली (भाषा)* *3. कर्म (व्यवहार)*   इन तीनों में वे पूरी कोशिश करते हैं कि कहीं भी अल्लाह के साथ किसी को साझी न ठहराया जाए। *आस्था (विश्वास)* मुसलमान उसी पर विश्वास रखते हैं जो क़ुरआन और सही हदीस से सिद्ध हो, और जो इसके विरुद्ध हो उसे स्वीकार नहीं करते। किसी विद्वान या व्यक्ति की बात तब तक नहीं मानते, जब तक वह इन शिक्षाओं के अनुरूप न हो। *बोली (भाषा)* वे अपनी भाषा में ऐसे शब्द नहीं बोलते जिनसे पूजा, बंदगी या ईश्वर जैसी भावना अल्लाह के अलावा किसी और के लिए प्रकट हो। *कर्म (व्यवहार)*   वे अपने व्यवहार में भी सावधानी रखते हैं कि कोई कार्य अल्लाह के अलावा किसी और की पूजा जैसा न बन जाए। *तोहिद और शिर्क का अर्थ* *तोहिद* तोहिद का अर्थ है: केवल एक ईश्वर की पूजा करना उसी को सृष्टि का र...