Skip to main content

Popular posts from this blog

الوداعی کلمات جامعہ اسلامیہ سنابل jamia Islamia Sanabil

محبتوں کا دریا سموئے ہوئے جدا ہورہے ہیں گلشن علم وفن سے ملاقات کے دن ختم ہوئے جدائی کے دن قریب ہوئے آج وہ  لمحہ آچکا ہے  ہے جس میں خوشی کا پہلو کم اور غمی کا پہلو زیادہ ہے جامعہ کے تئیں دل میں محبت کے جو جذبات موجزن ہیں ان کے اظہار کے لئے مجھے مناسب الفاظ نہیں مل رہے ہیں اور نہ میرے پاس وہ پیرایہ بیان ہے جس کے ذریعہ میں اپنے غم جدائی کی تفصیل کرسکوں اور مجھ جیسے ناتواں کے لئے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے جملوں اور الفاظ کے ذریعہ ان جذبہائے محبت کی ترجمانی کرسکے جو دلوں میں پیوست ہوچکے ہیں کیونکہ اب اس دیار محبوب کو الوداع کہنے کا وقت قریب آچکا ہے جس کی گود میں ہم نے اپنی تعلیمی زندگی کے بیشتر ایام گزارے ہیں اور مشکل ترین وصبر آزما حالات میں بہی ہم نے اسے اپنا جائے پناہ بنایا ہےاے سنابل تیری فضا کتنی راحت بخش تھی جس سے اب ہم اشک چھلکاتے وداع ہو رہے ہیں یقیناً اس وقت کو ہم کیسے بھلا سکتے جب ہم نے پہلی بار سرزمین سنابل میں قدم رکھا تہا اور اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کو دل میں بسائے ہوئے اس مادرعلمی میں داخلہ لیا اور یہاں کے چشم صافی سے جام کشید کرنے کے لئے پختہ عزا...

جنات کی حقیقت

  جنات کی حقیقت کتاب وسنت کی روشنی میں جنات اپنی فطرت وطبیعت کے لحاظ سے ایک غیر مرئی مخلوق ہیں جنہیں اللہ رب العالمین نے اپنی عبادت کے لئے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے اور انہیں مختلف روپ دھارنے کا ملکہ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی طاقت وقوت سے سرفراز کیا ہے.ذیل کے سطور میں جنات کے تعلق سے ایک اجمالی خامہ فرسائی کی گئی ہے. جنات کی تعریف جنات کی تعریف کرتے ہوئے امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :هم أجسام عاقلة خفية تغلب عليهم النارية والهوائية. [فتح القدیر 303/5] "جن وہ صاحب عقل اجسام ہیں جو نظر نہیں آتے ان پر ہوائی اور آتشی مادہ غالب ہوتا ہے ". جنات کے ثبوت میں قرآنی دلائل جنات ایک آتشی مخلوق ہیں جس کا ثبوت قرآن میں متعدد مقامات پر موجود ہے اللہ رب العالمین نے ان کے نام سے قرآن کی ایک سورت بنام "سورۃ الجن" نازل فرمائی ہم یہاں قرآن مجید سے چند دلائل ذکر کرتے ہیں جو آتشی مخلوق جنات کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا:وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ. [سورۃ الاحقاف :29] "اور یاد کر...

वन्दे मातरम् - मूल पाठ, सरल अर्थ और इस्लामी दृष्टि से विवेचन

  यह लेख किसी भावना को ठेस पहुँचाने या विवाद के लिए नहीं, बल्कि इस्लामी दृष्टिकोण को शांति, सम्मान और तर्क के साथ स्पष्ट करने के उद्देश्य से लिखा गया है। *भूमिका*     मुसलमान अपने धर्म में तीन बातों का विशेष ध्यान रखते हैं:   *1. आस्था (विश्वास)* *2. बोली (भाषा)* *3. कर्म (व्यवहार)*   इन तीनों में वे पूरी कोशिश करते हैं कि कहीं भी अल्लाह के साथ किसी को साझी न ठहराया जाए। *आस्था (विश्वास)* मुसलमान उसी पर विश्वास रखते हैं जो क़ुरआन और सही हदीस से सिद्ध हो, और जो इसके विरुद्ध हो उसे स्वीकार नहीं करते। किसी विद्वान या व्यक्ति की बात तब तक नहीं मानते, जब तक वह इन शिक्षाओं के अनुरूप न हो। *बोली (भाषा)* वे अपनी भाषा में ऐसे शब्द नहीं बोलते जिनसे पूजा, बंदगी या ईश्वर जैसी भावना अल्लाह के अलावा किसी और के लिए प्रकट हो। *कर्म (व्यवहार)*   वे अपने व्यवहार में भी सावधानी रखते हैं कि कोई कार्य अल्लाह के अलावा किसी और की पूजा जैसा न बन जाए। *तोहिद और शिर्क का अर्थ* *तोहिद* तोहिद का अर्थ है: केवल एक ईश्वर की पूजा करना उसी को सृष्टि का र...